شب بارات کی برکات اور نوافل

 





شبِ برات کی فضیلت اور اہمیت – ایک مکمل رہنمائی

‎شبِ برات کیا ہے؟

‎شبِ برات (15 شعبان کی رات) کو "لیلۃ البراءۃ" یعنی "نیکیوں کی رات"** کہا جاتا ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس رات میں:

‎- اللہ تعالیٰ بندوں کی مغفرت فرماتا ہے۔

‎- تقدیر کے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔

‎- دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

‎شبِ برات کی فضیلت

‎شبِ برات کو اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے۔ یہ رات برکتوں کی رات ہے۔ شبِ برات کے بارے میں احادیث میں بہت ساری معلومات دی گئی ہیں۔

‎ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شبِ برات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے۔

‎شبِ برات کی رات میں نماز، دعا، اور قرآن کی تلاوت کرنا بہت فضیلت کی بات ہے۔ یہ رات اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے بہت اہم ہے۔

‎نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شبِ برات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔

‎اس رات میں گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگنا بہت ضروری ہے۔

‎نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ شبِ برات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشش اور رحمت کرتا ہے۔

‎اس لیے ہم سب کو شبِ برات کی رات میں اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگنی چاہیے۔

‎شب برات کے حوالے سے احادیث

‎1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

‎"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اس رات میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کی بخشش فرماتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔'(ابن ماجہ)

‎2. حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

‎"شعبان کی پندرھویں رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور تمام بندوں کو بخش دیتا ہے سوائے چند لوگوں کے۔"(طبرانی)

‎شبِ برات کے مستحب اعمال

‎1. قیام اللیل (رات کا جاگنا):

‎   - تہجد، نوافل اور قرآن پاک کی تلاوت کرنا۔

‎2. توبہ واستغفار کرنا تسبیحات اور ذکر و اذکار

‎-

‎میں اللہ تعالیٰ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں

‎   "لا إلہ إلا اللہ"* کا ورد کرنا۔

‎- درود شریف کی کثرت (اللہم صلی علی محمدٍ و علی آل محمد)

‎دعاؤں کی قبولیت کا وقت

‎- افطار کے بعد سے لے کر سحر تک خصوصی دعائیں مانگنا۔

‎   - مخصوص دعا:

‎"اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ"

‎صدقہ و خیرات:

‎   - غریبوں، مساکین اور یتیموں کی مدد کرنا۔

‎   - رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا۔

‎شبِ برات کی رات گناہوں سے بچنے کی تلقین

‎اس رات میں:

‎❌ غیبت، چغلی، جھوٹ سے بچیں۔

‎❌ گانے بجانے اور فضول باتوں سے پرہیز کریں۔

‎✅ نیک اعمال اور عبادت پر توجہ دیں۔

‎آخر میں نصیحت

‎یہ رات اپنی قسمت سنوارنے کا موقع ہے۔ جس طرح تاجر سال میں ایک بار اپنے حساب کتاب کو درست کرتا ہے، اسی طرح ایک مومن کو بھی اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

‎ شب برات کے حوالے سے مزید تفصیل 

‎برات (15 شعبان) کی رات اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور بخشش کی رات ہے۔ اس رات میں کوئی مخصوص نماز فرض نہیں ہے، تاہم بزرگانِ دین اور احادیث کے مفہوم کی روشنی میں درج ذیل نوافل اور ان کی فضیلت

‎(تفسیر) بیان کی جاتی ہے:


‎1. نمازِ تحیۃ الوضو اور توبہ

‎جب بھی وضو کریں، دو رکعت نماز تحیۃ الوضو پڑھیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں

‎2. صلواۃ التسبیح 

‎آج رات صلواۃ التسبیح پڑھنے کی بہت فضیلت ہے۔ یہ نماز چار رکعت پر مشتمل ہے۔ حدیث میں ہے کہ اس نماز سے زندگی کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

‎طریقہ کار یہ ہے کہ ہر رکعت میں “سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر” کے الفاظ کو 75 مرتبہ پڑھا جاتا ہے، جو کہ مجموعی طور پر 300 مرتبہ ہوتا ہے۔

‎3. چھ رکعت نوافل (مغرب کے بعد)

‎مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعت (دو دو کر کے) پڑھنا بہت سے علماء اور بزرگوں کا معمول رہا ہے

‎پہلی دو رکعت: میں درازیِ عمر بالخیر (نیک لمبی زندگی) کی نیت سے پڑھ رہا ہوں۔

‎دوسری دو رکعت: بلاؤں اور مصیبتوں سے حفاظت کی نیت سے۔

‎تیسری دو رکعت: اللہ سے یہ دعا کرنے کے لیے کہ وہ مجھے مخلوق کی محتاجی سے بچائے اور صرف اللہ کا محتاج رکھے۔

‎عمل یہ ہے کہ ہر دو رکعت کے بعد سورہ یٰسین یا 21 بار سورہ اخلاص پڑھیں اور پھر شبِ برات کی دعا مانگیں۔

‎4. صلواۃ الخیر (100 رکعت)

‎بعض روایات میں 100 نفلی نمازیں پڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہر نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد دس بار سورہ اخلاص پڑھا جاتا ہے۔ اس نماز کو “صلاۃ الخیر” کہتے ہیں۔ اگر 100 نمازیں نہ پڑھ سکیں تو جتنی بھی نماز پڑھ سکیں پڑھ لیں۔

‎5. تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی

‎اس رات سورہ دخان، سورہ یٰسین اور استغفار کی کثرت کرنا بہت افضل ہے۔

‎شبِ برات کی حقیقت اور تفسیر (اہم نکات)

‎تقدیر کا فیصلہ ایک خاص رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اگلے سال کے لیے رزق، زندگی، موت اور حج کرنے والوں کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حتمی فیصلے کی نمائندگی کرتا ہے جو انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرتا ہے۔

‎عام معافی: اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔

‎یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم کیوں رہتے ہیں؟ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، جیسے کہ مشرک اور کینہ پرور۔ کینہ پرور وہ ہوتے ہیں جو اپنے دل میں بغض رکھتے ہیں یا اپنے والدین کی نافرمانی کرتے ہیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

امتِ مسلمہ کی موجودہ حالت اور اصلاح سوالات اور جوابات

شریعت اور جدید قوانین – ایک تقابلی جائزہ مکمل سوالات اور جوابات کے ساتھ

موت سے لے کر روزِمحشر تک قبر کا حال ۔سوالات اور جوابات کے ساتھ