رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضاعی بہن کون تھی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن کون تھی؟ – مکمل تفصیلی کہانی
رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن شیماء بنت الحارث کون تھیں؟ حضرت حلیمہ سعدیہ کے بچوں کی تفصیل، غزوہ حنین کا واقعہ اور سیرت کی ایمان افروز کہانی۔ مکمل مستند بلاگ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلین، نبینا محمد وعلى آله وصحبه أجمعین۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر گوشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ ﷺ کی بچپنے کی زندگی بھی اسی طرح برکتوں اور حکمتوں سے بھری ہوئی ہے۔ مکہ مکرمہ کے رواج کے مطابق قریش کے خاندان اپنے بچوں کو صحرائی ماحول میں پرورش کے لیے بھیجا کرتے تھے تاکہ وہ صحت مند رہیں، فصیح عربی زبان سیکھیں اور مضبوط جسم کے مالک بنیں۔ اسی رواج کے تحت رسول اللہ ﷺ کو بھی حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا گیا۔
اس مضمون میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن کون تھی، حضرت حلیمہ سعدیہ کے دیگر بچے کون تھے، اور رضاعی رشتے کی اہمیت کیا ہے۔ یہ کہانی صرف تاریخی حقائق نہیں بلکہ محبت، وفا، شکرگزاری اور نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کی زندہ مثال ہے۔
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا تعارف
حضرت حلیمہ بنت ابی ذؤیب سعدیہ رضی اللہ عنہا بنو سعد بن بکر قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کا تعلق ہوازن کی شاخ سے تھا۔ ان کے شوہر کا نام حارث بن عبدالعزیٰ تھا، جنہیں ابو کبشہ بھی کہا جاتا تھا۔
اس زمانے میں مکہ کے خاندان صحرائی عورتوں کو اپنے بچے دودھ پلانے کے لیے دیتے تھے۔ حضرت حلیمہ بھی دیگر عورتوں کے ساتھ مکہ آئیں۔ سب عورتوں نے مالدار گھرانوں کے بچے چن لیے، لیکن حضرت حلیمہ نے یتیم بچے محمد ﷺ کو قبول کیا، حالانکہ ان کے پاس دودھ بھی کم تھا اور سواری بھی کمزور۔
جیسے ہی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے گود میں لیا، برکت نازل ہو گئی۔ ان کا دودھ بہنے لگا، اونٹنی اور بکریاں دودھ دینے لگیں، اور سفر آسان ہو گیا۔ یہ برکتیں پورے بنو سعد میں مشہور ہو گئیں۔
رسول اللہ ﷺ تقریباً چار یا پانچ سال کی عمر تک حضرت حلیمہ کے گھر میں رہے۔ اس دوران آپ ﷺ نے صحرائی زندگی گزاری، فصیح عربی سیکھی اور ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتے رہے۔
حضرت حلیمہ سعدیہ کے بچے – رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی بہن
حضرت حلیمہ سعدیہ اور ان کے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ کے چند بچے تھے جو رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی بہن بنے۔ سیرت کی کتابوں میں ان کے نام درج ہیں:
عبداللہ بن الحارث
یہ رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت حلیمہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی انہیں بھی دودھ پلایا تھا۔
انیسہ بنت الحارث
یہ بھی رضاعی بہن تھیں۔ بعض روایات میں ان کا ذکر موجود ہے۔
شیماء بنت الحارث
یہ سب سے مشہور رضاعی بہن ہیں۔ ان کا اصل نام حُذافہ یا جُذامہ بتایا جاتا ہے، لیکن وہ شیماء کے لقب سے مشہور ہو گئیں۔ شیماء کے معنی ہیں “جس کے جسم پر خوبصورتی کا نشان ہو” یا “عزت و شرف والی”۔
ان تینوں کے علاوہ بعض روایات میں حذیفہ یا دیگر نام بھی آتے ہیں، لیکن سب سے زیادہ تفصیل شیماء رضی اللہ عنہا کے بارے میں ملتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ ان سب کے ساتھ بچپن گزارتے تھے۔ شیماء بڑی تھیں، اس لیے وہ چھوٹے محمد ﷺ کو گود میں اٹھاتی، لوریاں سناتی اور دیکھ بھال کرتی تھیں۔
شیماء بنت الحارث – رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن
شیماء رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے تقریباً پانچ چھ سال بڑی تھیں۔ وہ اپنی والدہ حضرت حلیمہ کی مدد کرتی تھیں اور نبی کریم ﷺ کی پرورش میں حصہ لیتی تھیں۔
سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو کندھے پر بٹھا کر گھومتی تھیں اور پیار بھری نظمیں سناتی تھیں۔ ایک مشہور لوری یوں ہے:
“یا ربنا أبق لنا محمداً
حتى أراه يافعاً وأمردا
ثم أراه سيداً مسودا
واكبت أعاديه معاً والحسدا
وأعطه عزاً يدوم أبدا”
یعنی اے ہمارے رب! محمد کو ہمارے لیے زندہ رکھ، یہاں تک کہ میں انہیں جوان اور بغیر داڑھی والا دیکھوں، پھر انہیں سردار بنتا دیکھوں، ان کے دشمنوں اور حاسدوں کو مغلوب کر، اور انہیں ہمیشہ کی عزت عطا فرما۔
یہ محبت بھری دعائیں بعد میں حقیقت بن گئیں۔
غزوہ حنین کا ایمان افروز واقعہ
8 ہجری میں غزوہ حنین پیش آیا۔ اس جنگ میں ہوازن اور ثقیف کے قبائل مسلمانوں کے مقابلے میں آئے۔ مسلمانوں کو ابتدائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن بالآخر فتح حاصل ہوئی۔ بہت سے قیدی پکڑے گئے۔
ان قیدیوں میں شیماء رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔ اس وقت ان کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی۔ مسلمان سپاہی انہیں سختی سے لے جا رہے تھے تو انہوں نے کہا:
“تم جانتے نہیں ہو کہ میں تمہارے نبی کی رضاعی بہن ہوں۔ میرے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔”
سپاہیوں نے یقین نہیں کیا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ شیماء نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ! میں آپ کی بہن ہوں، شیماء بنت الحارث، حلیمہ سعدیہ کی بیٹی۔”
رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کوئی علامت ہے؟ تو انہوں نے بچپن کی بات یاد دلائی کہ آپ ﷺ نے کبھی ان کی پیٹھ پر دانت لگائے تھے اور نشان اب بھی موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فوراً پہچان لیا۔ آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آپ نے اپنی چادر مبارک زمین پر بچھائی، شیماء کو اس پر بٹھایا اور بہت عزت دی۔ پھر فرمایا:
“اگر تم میرے پاس رہنا چاہو تو باعزت اور محبوب رہو گی، اور اگر اپنے قبیلے میں واپس جانا چاہو تو میں تمہیں پہنچا دوں گا۔”
شیماء رضی اللہ عنہا نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس موقع پر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں غلام، لونڈی اور کچھ جانور عطا فرما کر رخصت کیا۔
یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے وفا شعار اخلاق کی بہترین مثال ہے۔ آپ ﷺ نے بچپن کی محبت کو کبھی نہیں بھلایا۔
رضاعی رشتے کی شرعی اہمیت
اسلام میں رضاعت کا رشتہ بہت اہم ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں…”
(سورۃ النساء: ۲۳)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ رضاعت سے بھی حرمتِ نکاح ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے شیماء رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ پر حرام تھیں، بالکل جیسے حقیقی بہن۔
حضرت حلیمہ سعدیہ اور ان کے خاندان کے ساتھ نبی ﷺ کا سلوک
رسول اللہ ﷺ ہمیشہ حضرت حلیمہ اور ان کے خاندان کا احترام کرتے رہے۔ فتح مکہ کے بعد بھی آپ ﷺ نے بنو سعد کے قیدیوں کو آزاد کرانے میں خصوصیت برتی۔ جب حلیمہ سعدیہ کی وفات کی خبر ملی تو آپ ﷺ رونے لگے۔
شیماء رضی اللہ عنہا کے اسلام لانے کے بعد ان کا خاندان بھی مسلمان ہوا اور وہ صحابیہ کے زمرے میں آ گئیں۔
اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق
وفا اور شکرگزاری
نبی کریم ﷺ نے بچپن کی احسان مندی کبھی نہیں بھلائی۔ ہمیں بھی اپنے مربیوں اور احسان کرنے والوں کا شکر گزار رہنا چاہیے۔
رضاعی رشتے کی عظمت
اسلام میں دودھ کا رشتہ خون کے رشتے جیسا اہم ہے۔
محبت اور احترام
بڑے چھوٹوں کے ساتھ کیسا پیار بھرا سلوک کرنا چاہیے، اس کی مثال شیماء کے رویے میں ملتی ہے۔
اسلام کی دعوت
نبی ﷺ کے حسنِ اخلاق نے شیماء کو اسلام کی طرف کھینچا۔
برکت
حلیمہ سعدیہ کے گھر میں برکت آئی کیونکہ انہوں نے یتیم بچے کو قبول کیا۔
نتیجہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیماء بنت الحارث رضی اللہ عنہا تھیں۔ وہ حضرت حلیمہ سعدیہ کی بیٹی اور آپ ﷺ کی بچپنے کی ساتھی تھیں۔ غزوہ حنین کے موقع پر ان کی ملاقات اور اسلام قبول کرنے کا واقعہ سیرت کا ایک سنہری باب ہے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی محبت اور وفا کبھی مر نہیں سکتی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی رضاعی بہن کو وہی مقام دیا جو حقیقی بہن کو دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اگر آپ کو یہ مضمون مفید لگا ہو تو اسے شیئر کریں تاکہ دوسرے بھی اس ایمان افروز کہانی سے مستفید ہوں۔
واللہ أعلم بالصواب
جزاکم اللہ خیراً۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں